18 اکتوبر 2010 - 20:30

ملک میں سیلاب سے اموات کی تعداد تقریبا13 سو ہوگئی ہے اور صوبہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع آفت زدہ قرار دے دیے گئے،خیبرپختونخوا میں تمام صوبائی ٹیکسز،پنجاب میں زرعی ٹیکس اوربلوچستان میں زرعی قرضے معاف کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا صوبے میں بارش اورسیلاب کے باعث 800سے زائد افرادجاں بحق ہوچکے ہیں۔کالام میں 8 ہوٹل اور 300 مکان بہہ گئے،سوات اور شانگلہ میں بھی سیلاب نے تباہی مچادی ہے،کئی رابطہ پل اورہزاروں مکانات بہہ گئے۔ کبل کے علاقے دردیال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے۔صوبہ خیبرپختونخواہ میں 567مکانات مکمل طورپرتباہ ہوئے ،90سڑکوں کونقصان پہنچا،58بڑی سڑکیں آمدورفت کے لیے بند کردی گئیں جبکہ 104افراد لاپتا ہیں۔صوبے کے وزیراطلاعات میاں افتخارحسین نے کہاہے کہ امدادی کارروائیوں کیلئے بارہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔خیبر پختونخواکے ساتھ ساتھ پنجاب ، بلوچستان، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس سے مزید 494افراد جاں بحق ہو گئے ۔اس طرح ملک بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعدادمیں مزید اضافہ ہواہے۔اقوام متحدہ نے کہاہے کہ بارش اورسیلاب سے 10لاکھ افرادمتاثرہوئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب میں 37،بلوچستان میں 19، آزادکشمیر میں 32 ، اور گلگت بلتستان میں مزید6 افراد سیلاب میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

............

/110